Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
12 - 30
(۲) وہ شے جس میں خوشبو ملائی گئی اگر ماکولات میں سے ہے اور اس میں آگ کا عمل بھی نہیں کیا گیا تو خوشبو غالب ہونے کی صورت میں کفارہ واجب ہوگا اور مغلوب ہو تو کفارہ واجب نہیں لیکن اگر خوشبو (مہک ) آتی ہو، تو مکروہ ہے۔
(۳) اگر ٹھوس خوشبو کو مشروبات میں بغیر عملِ نار کے ملایا گیا ، تو مطلقاً خوشبو کا حکم دیا جائے گا۔ لیکن اگر خوشبو غالب ہو تو ’’دم‘‘ ورنہ’’ صدقہ‘‘ واجب ہوگا۔ ہاں اگر خوشبو غالب نہ ہونے کی صورت میں بھی مشروب کو تین مرتبہ پیا ، تو ’’دم‘‘ لازم ہوگا۔
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّۃُ السَّامِی ردالمحتار ( ج ۳، ص ۵۷۶) میں فرماتے ہیں :اعلم ان خلط الطیب بغیرہ علی وجوہ لانہ اما ان یخلط بطعام مطبوخ  او لا ففی الاول لاحکم للطیب سواء کان غالبا اومغلوبا وفی الثانی الحکم للغلبۃ ان غلب الطیب وجب الدم  وان لم تظھر رائحتہ کما فی الفتح  والا فلاشیء علیہ غیر انہ اذا وجدت معہ الرائحۃ کرہ وان خلط بمشروب فالحکم فیہ للطیب سواء غلب غیرہ ام لاغیر انہ فی غلبۃ الطیب یجب الدم وفی غلبۃ الغیرتجب الصدقۃ  الاان یشرب مرارا فیجب الدم۔خلاصہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
غلبہ کا اعتبار 
غلبہ کا اعتبار اجزاء کی کثرت سے ہوگا نہ کہ خوشبو سے۔
شرح اللباب ( ص ۳۱۷) میں ہے:فان کان الغالب الملح ای اجزائہ لا طعمہ ولا لونہ فلاشیء علیہیعنی اگر نمک غالب ہو یعنی اس کے اجزاء نہ کہ اس کا رنگ اور