Brailvi Books

احرام اور خوشبودار صابن
11 - 30
میں کوئی کفارہ واجب نہیں۔ تیسری نوع وہ کہ جو بذاتِ خود تو خوشبو نہیں ، لیکن خوشبو کی اصل ہے کہ بطورِ خوشبو بھی استعمال ہوتی ہے اور بطورِ سالن بھی۔ جیسے زیتون اور تل کا خالص تیل۔ اس میں اس کا استعمال مُعتبر ہے ( چنانچہ ) اگر بطورِ تیل بدن پر استعمال ہو، تو اس کے خوشبو ہونے کا حکم دیا جائے گا اور اگر کسی کھانے والی شے یا پیروں کی پھٹن میں استعمال ہو، تو چربی کی طرح خوشبو کا حکم نہ دیا جائے گا۔ا ھ
اس عبارت سے چند اُمور واضح ہوئے:
(۱)خالص خوشبوئیں یعنی جو صرف خوشبو ہی کے لئے مستعمل( استعمال ہوتی) ہوں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی اور استعمال نہ ہو جیسے مروَّجہ عطریات وغیرہ اس میں نیت کی شرط نہیں اس کو جس طرح بھی استعمال کیا جائے کفارہ لازم آئے گا۔
(۲) جومِنْ وَجہ(ایک وجہ سے) خوشبو اور مِنْ وَجْہ خوشبو نہیں ، اگر اسے بدن پر بطورِ خوشبو استعمال کیا جائے ، تو اس میں بھی نیت کی حاجت نہیں ، اگر کوئی اپنے بدن پر اس کا استعمال بھول کر بھی کرلے تب بھی کفارہ لازم ہوگا۔ جیسے زیتون کا خالص تیل … اور… اگر بطورِ دوا استعمال کیا تو خوشبو کا حکم نہیں ۔
خوشبو میں آگ کاعمل
یہ اَمر بھی قابلِ توجُّہ ہے کہ اگر خوشبو کو کسی شے کے ساتھ مخلوط کردیا( ملادیا ) گیا ہو خواہ وہ شے ماکولات ( کھانے والی اشیاء ) میں سے ہو یا مشروبات (پینے والی ) میں سے یا ان کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے مستعمل ہو، اس کے احکام میں تفصیل ہے۔ اگر خوشبو کو کسی شئے میں ڈال کر عملِ نار کرلیا گیا ہو تو اس کے استعمال سے مطلقاً کوئی شئے واجب نہیں اور کوئی کراہیت بھی نہیں اگرچہ مہک آرہی ہو۔