انسان جب آزمائش میں آتا ہے تو اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کو پکارتا ہے اور اس سے فریادی ہوتا ہے، میں نے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس آفت سے نجات کی دعائیں مانگیں، ان دعاؤں کی قبولیت کا اثر کچھ اس طرح ظاہر ہوا کہ مجھے وقت کے عظیم ولیِ کامل اور سنّتِ رسول کے زبردست عامل، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکا دامن نصیب ہوگیا، یوں عطاری سلسلے کے ساتھ ساتھ قادری سلسلے کا فیضان بھی جاری ہوگیا۔ میں نے اس مبارک سلسلے کے شجرہ شریف (جو شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ کے نام سے موسوم ہے) میں موجود وظائف پڑھنا شروع کردیے، خصوصاً اپنی پریشانی سے متعلق اَورَاد وِرْدِ زباں کرلئے۔ گزرتے دنوں کے ساتھ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان اَورَاد اور سلسلۂ عالیہ کی برکات کا ظہور ہونے لگا، ایک ایک کرکے ہماری ساری پریشانیاں حل ہوتی گئیں اور رشتہ داروں کی جانب سے بھی امداد کا سلسلہ شروع ہوگیا اور کرم بالائے کرم ہماری ڈوبی ہوئی رقم بھی واپس مل گئی ۔ اللہ والوں سے نسبت اور شجرہ عطاریہ کی برکت نے دعوتِ اسلامی کی حقّانیت ہم پر آشکار کردی، یوں دعوتِ اسلامی کی محبت و عقیدت ہمارے دلوں میں راسخ ہوگئی۔ میں نے مدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بہنوں سے تعلق جوڑ لیا اور اِنہی کی انفرادی کوشش کی بدولت دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے مدرسۃُ المدینہ بالغات میں داخلہ لے لیا، یوں قرآنِ مجید صحیح انداز سے