Brailvi Books

اداکاری کا شوق کیسے ختم ہوا؟
25 - 32
اُس کوایک ٹوپی بھیج دی، قیصرِ رُوم اُس ٹوپی کوپہنتا تو اس کا درد ِسر کافُور ہو جاتا اور جب سرسے اُتارتا تودردِ سر پھر لوٹ آتا۔ اسے بڑا تَعَجُّبُ ہوا ۔ آخِرکار اُس نے اس ٹوپی کواُدھیڑا تو اس میں سے ایک کاغذ بر آمد ہوا جس پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھاتھا۔ (اسرار الفاتحہ، ص ۱۶۳، تفسیر کبیر، ۱/ ۱۵۵) آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اس روایت کی روشنی میں دردِ سر کا طریقۂ علاج تحریر فرماتے ہیں: اِس حکایت سے معلوم ہوا کہ جس کو دردِ سر ہو وہ ایک کاغذ پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھ کر یا لکھوا کر اُس کا تعویذسر پر باندھ لے۔ لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اَنمٹ سیاہی مَثلاً بال پوائنٹ سے لکھئے اور بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم کے ’’ہ‘‘  اور تینوں ’’م‘‘ کے دائرے کھلے رکھئے، تعویذ لکھنے کا اُصول یہ ہے کہ آیت یا عبارت لکھنے میں ہر دائرے والے حرف کا دائرہ کھلا ہو یعنی اِس طرح مَثلاً ط، ظ، ہ، ھ،ص، ض، و،م،ف،ق وغیرہ۔ اِعراب لگانا ضروری نہیں، لکھ کر موم جامہ (یعنی موم میں تر کئے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا لپیٹ لیں) یا پلاسٹک کوٹنگ کر لیں پھر کپڑے، ریگزین یا چمڑے میں تعویذ بنا لیں اور سر پر باندھ لیں جن کو عِمامہ شریف کا تاج سجانے کی سعادت حاصل ہے وہ چاہیں تو عمامہ شریف کی ٹوپی میں سی لیں۔ اِسی طرح اسلامی بہنیں دوپٹیّ یابُرقع کے اُس حصّے میں سی لیں جو سر پر رہتا ہے۔ اگر اِعتقاد کامِل ہو گا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دردِ سر جاتا رہے گا۔ (فیضانِ سنّت، باب ’’فیضانِ بِسم اﷲ‘‘، ص68) سر درد اور آدھے سر کے درد کے مزید علاج کے حوالے سے