نعمت سے کم نہیں، اسی کی بدولت دنیا کی ہر نعمت ہمارے لئے باعثِ فرحت ہے، جبکہ اس کے برعکس بیماری بے چینی اور کرب واضطراب کاایک سبب ہے۔ میں ایک عرصے سے سر درد کی تکلیف میں مبتلا تھی اور کافی وقت سے اس پریشانی کو جھیل رہی تھی، اس درد نے ایسے پنجے گاڑ رکھے تھے کہ کوئی ٹوٹکہ مجھے کام آتا نہ کوئی دوائی اس سے خلاصی دِلا پاتی۔ دردِ سر کے اس تسلسل کے دوران ایک بار میری ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی ترکیب بن گئی، وہاں ایک مُبلِّغہ اسلامی بہن سے ملاقات ہوئی تومیں نے انہیں بتایا کہ میں شدید سر درد کی بیماری میں مبتلا ہوں، علاج ومعالجہ کافی کرواچکی ہوں مگر اس سے نجات کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آرہی، میرے دن رات بڑی تکلیف میں بسر ہورہے ہیں، آپ مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتادیں جس کے پڑھنے کی برکت سے مجھے اس درد سے چھٹکارا مل جائے۔ میری اس پریشانی کو سننے کے بعد انہوں نے مجھے دلاسا دیااور مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیف ’’فیضانِ بِسم اﷲ‘‘ کے بارے میں بتایا اور اس کی خصوصیت سے آگاہ کیا کہ اس میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دردِ سر کے مختلف علاج تحریر فرمائیں ہیں، آپ ان پر عمل کریں، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو شفاء حاصل ہوگی، انہوں نے مجھے مذکورہ کتاب پڑھنے کے لیے دی، چنانچہ میں وہ کتاب گھر لے گئی اور اس میں اپنی پریشانی کاحل تلاش کرنے لگی، دورانِ مطالعہ مجھے اس میں مطلوبہ وظیفہ مل گیا، میں