سنّتوں بھرے اجتماع تک رسائی ہوگئی۔ وہاں ہونے والا سنّتوںبھرے بیان ایک الگ ہی نوعیت کا تھا جس کا ہر لفظ، ہر جملہ گناہوں کے مریض کے لئے کسی کیمیا (فائدہ مند دوا) سے کم نہ تھا، پھر اس بیان کے بعد ہونے والا حلقۂ ذکر بھی ایک منفرد خصوصیت کا حامل تھا۔ اختتام سے قبل اجتماعی دُعا کرائی گئی جس میں تمام شرکائے اجتماع نے گڑ گڑا کر بارگاہِ الہٰی میں دعائیں مانگیں، دُعا کرانے والے کا انداز اور ان کے منہ سے ادا ہونے والے دعائیہ کلمات دِل پر چوٹ کررہے تھے اور ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عجز وانکساری کا سلیقہ سکھا رہے تھے، اجتماع میں شریک اسلامی بہنوں کی آمین کے ساتھ ساتھ میں بھی ہر دُعا پر آمین کہتی چلی گئی اور یوں اپنے تمام گزشتہ گناہوں سے سچی توبہ کرکے اجتماع سے واپس لوٹی۔ بعد ازاں مدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بہنوں کی پاکیزہ صحبت کے سبب میرا کردار، اخلاق اور زندگی گزارنے کا انداز اسلامی طریقۂ کار پر اُستوار ہوتا گیا۔ فرائض و سُنن اور نوافل کی پابندی مجھے نصیب ہوگئی، شرعی پردہ کرنے کی عادت مجھ میں راسخ ہوگئی اور گناہوں بھری زندگی سے بھی مجھے نجات مل گئی۔
تادمِ تحریر ڈویژن مشاورت کی ذمہ دارہ کی حیثیت سے دینِ اسلام کا مُقدّس کام سرانجام دینے کی سعی کر رہی ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ اخلاص کی دولت عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم