خود بخود تبدیل ہوتے چلے گئے، نمازیں پابندی سے پڑھنے لگی اور بحکمِ قرآنی پردہ بھی کرنے لگی، بڑوں کا ادب کرنا میری عادت بن گیا اور چھوٹوں پر شفقت کا مجھے سلیقہ آگیا اور یوں میرے ظاہر و باطن میں مدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔ جو لوگ میری سابقہ زندگی سے واقف تھے ان کے لیے میری یہ تبدیلی باعثِ حیرت بن گئی۔
دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی مجھے خوب برکتیں ملی خصوصاً میرے نیکی کی دعوت کے جذبے کو چارچاند لگ گئے۔ میرے اسی جذبے کے دیکھتے ہوئے مدَنی مرکز کی طرف سے مجھے حلقہ مشاورت میں مدنی انعامات کا ذمّہ دار مُقرر کردیا گیا اوریوں مجھے خدمتِ دین کے لئے چن لیا گیا۔ بلاشبہ یہ دعوتِ اسلامی کا ہی فیضان ہے کہ دیے سے دیا جلتا جارہا ہے اور عصیاں کے اندھیرے میں ڈوبے اس معاشرے میں اجالا ہوتا جارہا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ زیست امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول پر استقامت عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{7}گناہوں کے امراض کا علاج
بہاولنگر (صوبہ پنجاب) کی میڈیکل کالونی میں رہنے والی ایک اسلامی بہن اپنی زندگی میں آنے والے نشیب و فراز کے احوال کچھ اس طرح لکھتی ہیں: