Brailvi Books

اداکاری کا شوق کیسے ختم ہوا؟
17 - 32
اسلامی بہن سے ہوگئی، ان کا مجھ سے ملنا محض نیکی کی دعوت کے لئے تھا لہٰذا انہوں نے دینِ اسلام کے حوالے سے گفتگو شروع کردی، دورانِ گفتگو وہ معاشرے میں پھیلنے والی بداعمالیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ ہمارے اسلاف نے اسلام کی خاطرکتنی قربانیاں دیں مگر افسوس! آج ہم ان کو نظر انداز کرتے ہوئے احکام ِ اسلام کو پامال کرر رہے ہیں، اگر ہم اسی طرح موت سے ہمکنار ہوگئے تو کل قیامت میں اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کیا جواب دیں گے اور کس منہ سے حضور َصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شفاعت طلب کریں گے، گفتگو کے اختتام پر انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مدَنی ماحول کے بارے میں بتایا اور کہا کہ اگر واقعی ہمیں نیک بننا ہے اور سنّتوں پر عمل کا جذپہ پانا ہے تو دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونا ہوگا اور سنّتوں بھرے اجتماعات میں اپنی شرکت کو لازمی بنانا ہوگا۔ میں زندگی میں اصلاح سے معمور ایسی باتیں پہلی بار سن رہی تھی، ایک خیرخواہ کی باتوں کو ٹھکرادینا کسی صورت انصاف نہ تھا چنانچہ میں نے اپنی اس مُحسِنہ اسلامی بہن کی نیکی کی دعوت کو تہِہ دِل سے قبول کیا اور ان سے رہنمائی لیتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے اجتماعات میں جانا شروع کردیا۔ مدَنی ماحول میں سنّتوں پر عمل کرنے والی اور خوفِ خدا رکھنے والی اسلامی بہنوں کا ساتھ نصیب ہوا تو میرے زندگی کے معاملات