Brailvi Books

عاشق اکبر
9 - 64
 کی طرف سے بھی یہی حُکم تھاتاکہ کافِروں  کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف اور نُقصان سے محفوظ رہیں۔ جب مسلما ن مردوں  کی تعداد 38 ہو گئی تو حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اَکبر   رضی اللہ تعالٰی عنہنے بارگاہِ رسولِ انورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممیں  عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ابعَلَی الاعلان تبلیغِ اِسلام کی اِجازت عِنایَت فرما دیجئے ۔ دو عالم کے مالِک ومختار،شفیعِ روزِ شمار، اُمّت کے غم خوارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اوّلاً اِنکار فرمایا مگر پھر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہکے اِصرارپر اِجازت عنایت فرما دی۔ چُنانچِہ سب مسلمانوں  کو لے کر مسجدُالحرام شریف زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں  تشریف لے گئے اورخطیبِ اوّل حضر تِ سیِّدُنا  صِدّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خطبہ کا آغاز کیا، خطبہ شروع ہوتے ہی کُفّار ومُشرکین چاروں  طرف سے مسلمانوں  پر ٹوٹ پڑے ۔  مکۂ مکرمہ زَادَھَااللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں  آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ    کی عَظَمَت و شَرافت مُسَلَّم تھی، اِس کے باوُجُود کُفّارِ بداَطوار نے آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ پر بھی اِس قدرخونی وار کئے کہ چہرۂ مُبارَک لَہولُہان ہوگیا حتّٰی کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ بے ہوش ہوگئے۔ جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہکے قبیلے کے لوگوں  کو خبر ہوئی تووہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو وہاں  سے اُٹھا کر لائے۔ لوگوں نے گُمان کیا کہ حضرتِ سیِّدُناصِدِّیقِ اَکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ  زندہ نہ بچ سکیں  گے۔ شام کو جب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اِفاقہ ہوا اور ہوش میں  آئے تو سب سے پہلے یہ اَلفاظ زبانِ صداقت نشان پر جاری ہوئے: محبوبِ ربّ ِذُوالجَلال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا کیا