حال ہے؟ لوگوں کی طرف سے اِس پر بَہُت مَلامت ہوئی کہ اُن کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہی یہ مصیبت آئی، پھر بھی اُنہی کا نام لے رہے ہو۔
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ ٔ ماجِدہ اُمُّ الْخَیرکھانا لے آئیں مگر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہکی ایک ہی صد ا تھی کہ شاہِ خوش خِصال،پیکر ِحُسن وجمال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا کیا حال ہے؟ والِدۂ محترمہ نے لاعلمی کا اِظہار کیا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فرمایا :اُمِّ جمیل رضی اللہ تعالٰی عنہا (حضرتِ سیِّدُنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بہن) سے دَ ریافت کیجئے، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدۂ ماجِدہ اپنے لختِ جگر کی اِس مظلومانہ حالت میں کی گئی بیتا بانہ درخواست پوری کرنے کے لئے حضر تِ سیِّدَتُنا اُمِّ جمیلرضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس گئیں اورسرورِ معصوم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا حال معلوم کیا۔ و ہ بھی نامُساعِد حالات کے سبب اُس وقت اپنا اِسلام چھپائے ہوئے تھیں اور چُونکہاُمُّ الْخَیرابھی تک مسلمان نہ ہوئی تھیں لہٰذا انجان بنتے ہوئے فرمانے لگیں : میں کیا جانوں کون محمد (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اور کون ابوبکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ)۔ہاں آپ کے بیٹے کی حالت سُن کر رَنج ہوا، اگر آپ کہیں تو میں چل کر اُن کی حالت دیکھ لوں۔اُمُّ الْخَیر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا کواپنے گھرلے آئیں ۔ انہوں نے جب حضر تِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حالتِ زار دیکھی تو تَحَمُّل(یعنی برداشت) نہ کر سکیں ، رونا شروع کر دیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہنے پوچھا:میرے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی خیر خبر دیجئے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ جمیلرضی اللہ تعالٰی عنہا نے