Brailvi Books

عاشق اکبر
8 - 64
حقیقت نشان ہے: ’’مَا نَفَعَنِیْ مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنِیْ مَالُ اَبِیْ بَکْریعنی مجھے کبھی کسی کے مال نے وہ فائدہ نہ دیا جو ابوبکر کے مال نے دیا۔‘‘ بارگاہِ نُبُوّت سے یہ بِشارت سُن کر حضرتِ سیِّدُناابوبکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ ) رو دئیے اور عَرض کی: یا رسولَ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میرے اورمیرے مال کے مالِک آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہی تو ہیں۔
			(سُنَنِ اِبن ماجہ ج۱ ص۷۲ حدیث ۹۴ دارالمعرفۃ بیروت)
وُہی آنکھ اُن کا جو منہ تکے، وُہی لب کہ مَحو ہوں  نَعت کے
وُہی سَر جو اُن کے لئے جُھکے، وُہی دل جو اُن پہ نِثار ہے (حدائق بخشِش شریف)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس روایَتِ مبارَکہ سے معلوم ہواکہ حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ  کا مبارَک عقیدہ بھی یہی تھا کہ ہم محبوبِ ربُّ الانامعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے غلام ہیں اورغلام کے تمام مال ومَنال کا مالِک اُس کا آقا ہی ہوتاہے، ہم غلاموں  کا تو اپناہے ہی کیا؟
کیا پیش کریں  جاناں  کیا چیز ہماری ہے
یہ دل بھی تمہار ا ہے یہ جاں  بھی تمہاری ہے
کروں  تیرے نام پہ جاں  فدا
	اِبتِدائے اِسلام میں  جو شخص مسلمان ہوتا وہ اپنے اِسلام کو حَتَّی الْوَسْع (جہاں  تک مکن ہوتا )مَخفی رکھتا کہ حُضُورِ اَکرم، نورِ مُجَسَّم ،غم خوارِاُمَمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم