{13}آج کل قینچی یا مشین کے ذَرِیعے بالوں کو مخصوص طرز پر کاٹ کر کہیں بڑے تو کہیں چھوٹے کر دیئے جاتے ہیں ، ایسے بال رکھنا سنَّت نہیں {14} فرمانِ مصطَفٰیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم : ’’جس کے بال ہوں وہ ان کا اِکرام کرے۔‘‘ (سُنَنِ ابوداوٗد ج ۴ ص ۱۰۳ حدیث۴۱۶۳)یعنی ان کو دھوئے، تیل لگائے اور کنگھا کرے {15} حضرت سیِّدُنا ابراھیمخلیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے سب سے پہلے مہمانوں کی ضِیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھ کے بال تراشے اور سب سے پہلے سفید بال دیکھا۔ عرض کی: اے رب! یہ کیا ہے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ’’اے ابراہیم! یہ وقار ہے۔‘‘ عرض کی: اے میرے رب! میرا وقار زیادہ کر۔ (موطا ج ۲ ص ۴۱۵ حدیث ۱۷۵۶ ) {16}دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ224پر ہے: محبوبِ ربُّ العبادصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت بُنیادہے : ’’جو شخص قصداً (یعنی جان بوجھ کر)سفید بال اُکھاڑے گا قِیامت کے دن وہ نیزہ ہوجائے گا جس سے اس کو بھونکا جائے گا۔‘‘ (کَنْزُ الْعُمّال ج ۶ ص۲۸۱رقم ۱۷۲۷۶) {17}بُچّی(یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں اس) کے اَغَل بَغَل (یعنی آس پاس)کے بال مُونڈانا یا اُکھیڑنا بدعت ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری ج۵ ص۳۵۸) {18} گردن کے بال مُونڈنا مکروہ ہے۔ (ایضاًص۳۵۷) یعنی جب سر کے بال نہ مُونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں جیسا کہ بَہُت سے لوگ خط بنوانے میں گردن کے بال بھی مونڈاتے ہیں اور اگر پورے سر کے بال مونڈا دیے تو اِس کے ساتھ گردن کے بال بھی