کہ بال کہیں کندھوں سے نیچے تو نہیں جا رہے {6}میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : عورتوں کی طرح کندھوں سے نیچے بال رکھنا مَرد کیلئیحرام ہے(تسہیلاً فتاوٰی رضویہ ج۲۱ص۶۰۰){7} صَدرُالشَّریعہ،بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں :مرد کویہ جائز نہیں کہ عورَتوں کی طرح بال بڑھائے، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گُوندھتے ہیں یا جُوڑے(یعنی عورَتوں کی طرح بال اکٹّھے کر کے گدّی کی طرف گانٹھ) بنالیتے ہیں یہ سب ناجائز کام اور خِلاف شَرع ہیں۔ تصوُّف بالوں کے بڑھانے اور رنگے ہوئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ حُضورِ اقدسصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی پوری پَیروی کرنے اور خواہِشاتِ نفس کو مٹانے کا نام ہے۔ (بہارِشریعت حصّہ ۱۶ص۲۳۰){8} عورت کا سر مُنڈوانا حرام ہے۔( خلاصہ ازفتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۶۶۴) {9}عورت کو سر کے بال کٹوانے جیسا کہ اِس زمانے میں نصرانی عورتوں نے کٹوانے شروع کردیے ناجائز و گناہ ہے اور اس پر لعنت آئی۔ شوہر نے ایسا کرنے کو کہا جب بھی یہی حکم ہے کہ عور ت ایسا کرنے میں گنہگار ہوگی کیونکہ شریعت کی نافرمانی کرنے میں کسی کا (یعنی ماں باپ یا شوہر وغیرہ کا)کہنا نہیں مانا جائے گا۔ (بہارِشریعت حصّہ ۱۶ص۲۳۱) {10} بعض لوگ سیدھی یا اُلٹی جانب مانگ نکالتے ہیں یہ سنّتکے خلاف ہے {11} سنّت یہ ہے کہ اگر سر پربال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے (ایضاً ) {12}(سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے) بِغیر حج کبھی سرمُنڈوانا ثابت نہیں (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۶۹۰ )