مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ،نوشۂ بزمِ جنّت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵)
سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمّد
’’گیسورکھنا نبیِّ پاک کی سنَّت ہے ‘‘
کے بائیس حُرُوف کی نسبت سے زُلفوں اور سر کے بالوں وغیرہ کے 22مَدَنی پھول
{1} خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زُلفیں کبھی نصف (یعنی آدھے)کان مبارَک تک تو{2} کبھی کان مبارَک کی لَوتک اور{3}بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں یعنی کندھوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں (الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص۳۴،۳۵،۱۸){4}ہمیں چاہئے کہ موقع بہ موقع تینوں سنّتیں ادا کریں ،یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زلفیں رکھیں {5} کندھوں کو چُھونے کی حد تک زلفیں بڑھانے والی سنَّت کی ادائیگی عُمُوماً نفس پرزیادہ شاق ( یعنی بھاری) ہوتی ہے مگر زندَگی میں ایک آدھ بار تو ہر ایک کویہ سنَّت ادا کرہی لینی چاہئے ، اَلبتّہ یہ خیال رکھنا ضَروری ہے کہ بال کندھوں سے نیچے نہ ہونے پائیں ، پانی سے اچّھی طرح بھیگ جانے کے بعد زُلفوں کی درازی(یعنی لمبائی) خوب نُمایاں ہو جاتی ہے لہٰذا جن دنوں بڑھائیں ان دنوں غسل کے بعدکنگھی کرکے غور سے دیکھ لیا کریں