گیا کہ جو شیخ صِدِّیقی(سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کے شہزادے جو کہ صَحابی تھے اُن یعنی) حضرت محمد بن ابوبکر(رضی اللہ تعالٰی عنہما) کی اولاد سے ہیں ، انہیں سانپ یا تو کاٹتا نہیں اگر کاٹے تو(زہر) اثر نہیں کرتا۔(یہ) اُس لُعاب شریف کااثر ہے(جو کہ سرکارِ مدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کے انگوٹھے پر غارِثور میں سانپ کے ڈسنے کی جگہ لگایا تھا) اور ان کی اولاد کے پاؤں کے انگوٹھے میں ’’ سیاہ تِل‘‘ ہو تا ہے حتّٰی کہ اگر ماں باپ دونوں کی طرف سے شیخ صِدِّیقی ہو تو دونوں پاؤں کے انگوٹھے میں تِل ہو گا۔ میں نے بَہُت(سے) صدِّیقی حَضَرات کے پاؤں کے انگوٹھے میں یہ تِل دیکھے ہیں۔ غَرَضیکہ یہ عجیب مُعجزات ہیں ‘‘ ( یعنی صدِّیقیوں کو سانپ کانہ کاٹنا ، کاٹے تو زہر کا اثر نہ کرنا اور آج تک پاؤں کے انگوٹھے میں تِل کا پایا جانا یہ سب سرکارِ رسالت مآب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک لُعاب کے مُعجزات ہیں )
ضعیفی میں یہ قوّت ہے ضعیفوں ۱؎ کو قَوی کر دیں
سہارا لیں ضعیف و اَقوِیا۲؎ صدِّیقِ اکبر کا(ذوقِ نعت)
صدّیقِ اَکبر نے مَدَنی آپریشن فرمایا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے دل میں عشقِ رسول کی شمع جلانے اور اپنا سینہ مَحَبّتِرسول کا مدینہ بنانے کے لئے دعوتِ اِسلامی کے مدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے،اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس مدَنی ماحول کی برَکت سے راہِ سنّت پر چلنے کی سعادت اور فیضانِ صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی برَکات نصیب ہوں گی ۔ سنّتوں کی تربیّت کی
مــــــــــــدینہ
۱ کمزوروں ۲؎ قوی کی جمع ۔ طاقتور