Brailvi Books

عاشق اکبر
55 - 64
کے اندر سفر میں  گزار کر مرنے کے بعد ان کی شَفاعت کے حق دار ہو جایئے اوراپنا منہ بروزِ قِیامت نبیِّ رحمت ،شفیعِ امَّتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کودکھانے کے قابِل بنا لیجئے یعنی یہودو نصاریٰ کی سی شکل و صورت بنانی چھوڑ دیجئے ،اپنے چہرے پر ایک مٹّھی داڑھی سجا لیجئے،انگریزی بالوں  کے بجائے زلفیں  رکھ لیجئے اور ننگے سر گھومنے کے بجائے سبز عمامہ شریف کے ذَرِیعے اپنا سر ’’ سر سبز‘‘ کر لیجئے۔بس اپنے ظاہر و باطن پر مَدَنی رنگ چڑھا لیجئے۔
ڈر تھا کہ عصیاں  کی سزا اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رَحمت نے صدا یہ بھی نہیں  وہ بھی نہیں
	  میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت،ولیِّ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسا لت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِّ سنّت، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  ہمیں  سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں :
جو نہ بھولا ہم غریبوں  کو رضاؔ
یاد  اُس  کی  اپنی  عادت  کیجئے
کاش! ہم پکّے عاشقِ رسول بن جائیں  
	حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کے قدموں  کی دُھول کے صدقے  کاش! ہم بھی سچّے اور پکّے عاشقِ رسول بن جائیں۔ کاش! ہمارا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سوناجاگنا،لینا دینا،جینا مرنا میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطَفٰیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سُنَّتوں  کے مطابِق ہو جائے ۔ اے کاش!