جن کے لب پر رہا’’ امَّتی اُمَّتی ‘‘یاد اُن کی نہ بھول اے نیازیؔ کبھی
وہ کہیں اُمَّتی تُو بھی کہہ یا نبی! میں ہوں حاضِر تیری چاکری کے لیے
بروزِ قِیامت فکرِ امَّت کا انداز
حضرتِ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے،حُضور شاہِ خیرُالْاَنام صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : قِیامت کے دن تمام انبیاءِ کرام (عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ) سونے کے منبروں پر جلوہ گر ہوں گے ،میرا منبر خالی ہو گا کیوں کہ میں اپنے رب کے حُضُور خاموش کھڑا ہوں گا کہ کہیں ایسا نہ ہو اللہمجھے جنَّت میں جانے کا حکم فرما دے اور میری اُمّت میرے بعد پریشان پھرتی رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محبوب! تیری اُمّت کے بارے میں وُہی فیصلہ کروں گا جو تیری چاہت ہے ۔ میں عرض کروں گا : اللھُمَّ عَجِّلْ حِسَابَھُمْ یعنی اے اللہ !ان کا حساب جلدی لے لے ( کہ میں ان کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں ) یہ مسلسل عرض کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے دوزخ میں جانے والے میرے اُمّتیوں کی فہرست دے دی جائے گی ( جو جہنَّم میں داخِل ہو چکے ہوں گے ان کی شَفاعت کر کے میں انہیں نکالتا جاؤں گا)یوں عذابِ الہٰی کے لیے میری اُمّت کا کوئی فرد نہ بچے گا۔ (کَنْزُ الْعُمّالج۷ ص۱۴ رقم۳۹۱۱۱دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اللہ! کیا جہنَّم اب بھی نہ سرد ہو گا
رو رو کے مصطَفٰے نے دریا بہا دیئے ہیں
اے عاشقانِ رسول!امَّت کے غمخوار آقا کے قدموں پرنثار ہو جایئے اور زندگی ان کی غلامی بلکہ ان کے غلاموں کی غلامی اور دعوتِ اسلامی اور اس کے مَدَنی قافِلوں