Brailvi Books

عاشق اکبر
53 - 64
مبارَک ہونٹ ہل رہے تھے) میں  نے اپنے کانوں  کو اللہعَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دَہَن (یعنی منہ)مبارَک کے قریب کیا ،میں  نے سنا کہ آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے تھے ’’ ربِّ اُمَّتِی اُمَّتِی ‘‘ (یعنی پروردگار! میری اُمّت میری اُمّت)  (مَدارجُ النُّبُوۃ ج۲ ص۴۴۲)نیزکنزالعُمّال جلد 7 صَفحَہ178  پر ہے: فرمانِ مصطَفٰیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم :’’ جب میری وفات ہو جائے گی تو اپنی قَبْرمیں  ہمیشہ پکارتا رہوں  گا :یا ربِّ اُمَّتِی اُمَّتِی یعنی اے پروردگار! میری اُمّت میری اُمّت ۔ یہاں  تک کہ دوسرا صُور پھونکا جائے۔‘‘(کَنْزُ الْعُمّال) میرے آقا اعلیٰ حضرت اپنے لئے ایمان کی حفاظت کی خیرات طلب کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں  عرض کرتے ہیں :
جنہیں  مَرقَد میں  تا حشر اُمَّتی کہہ کرپکارو گے
ہمیں  بھی یاد کر لو ان میں  صدقہ اپنی رحمت کا(حدائقِ بخشش شریف)
مُحدِّثِ اعظم پاکستان نے فرمایا
	مُحدِّثِ اعظم پاکستان حضرت علّامہ مولاناسردار احمد علیہ رحمۃُ اللہِ الاَحَد فرمایا کرتے تھے کہ حُضُورِ پاکصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو ساری عمر ہمیں  اُمَّتی اُمَّتی  کہہ کر یادفرماتے رہے ، قبر انور میں  بھی  اُمَّتی اُمَّتی   فرما رہے ہیں  اورحشر تک فرماتے رہیں  گے یہاں  تک کہ محشر کے روز بھی اُمَّتی اُمَّتیفرمائیں گے ۔ حق یہ ہے کہ اگر صِرف ایک بار بھی اُمّتی فرماد یتے اور ہم ساری زندگی یانبی یانبی ،یارسولَ اللہ یا حبیبَ اللہ کہتے رہیں  تب بھی اُس ایک بار اُمّتی کہنے کا حق ادا نہیں  ہو سکتا۔