Brailvi Books

عاشق اکبر
52 - 64
	 فِکرِ مدینہ    ۱       کیجئے!یہ کیسا عشق اور کیسی محبت ہے؟ کہ محبوبِ خوش خِصال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دُشمنوں  جیسی شکل وصورت و چال ڈھال اپنانے میں  فخر محسوس کیا جائے! 
وَضع میں  تم ہو نصاریٰ تو تَمَدُّن میں  ہُنُود
یہ مسلماں  ہیں  جنہیں  دیکھ کے شرمائیں  یہود
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُحسن وکریم اور شفیق و رحیم آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم توہمیں  ہمیشہ یاد فرماتے رہے، بلکہدنیا میں  تشریف لاتے ہی آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سجدہ کیا۔ اس وقت ہونٹوں  پر یہ دُعاجاری تھی:رَبِّ ہَبْ لِیْ اُمَّتِیْ یعنی پروردگار!میری اُ مّت مجھے ہِبہ کر دے ۔			(فتاوٰی رضویہ ج۳۰ص۷۱۷)  
پہلے سجدے پہ روزِ ازَل سے درود
یادگاریٔ اُمّت پہ لاکھوں  سلام(حدائق بخشش شریف)
تا قِیامت ’’ اُمّتی اُمّتی ‘‘ فرمائیں  گے
	مَدارِجُ النُّبُوۃ میں ہے:حضرتِ سیِّدُنا قُثَم     رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ شخص تھے جو آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو قبر انور میں اُتارنے کے بعد سب سے آخِر میں  باہَر آئے تھے، چُنانچِہ ان کا بیان ہے کہ میں  ہی آخِری شخص ہوں  جس نے حُضُورِ انورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا رُوئے مُنوَّر ،قبر اَطہر میں دیکھا تھا ،میں  نے دیکھا کہ سلطانِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمقَبْر انور میں   اپنے لبہائے مبارَکہ کوجُنبِش فرما رہے تھے(یعنی 
مــــــــــــــدینہ
    ۱        دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اپنے اعمال کا مُحاسَبہ کرنے کو ’’فکرِ مدینہ‘‘ کہتے ہیں۔