سنو! رسولِ ذی وقار، دو عالَم کے تاجدار، شَہَنْشاہِ اَبرار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : ’’جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۲۰ص۴۲۰حدیث۱۰۱۲)وہ کیسے عاشقِ رسول ہیں جو کہ نماز سے جی چُرا کر، نماز جان بوجھ کرقضا کر کے سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے قلبِ پُراَنوار کے لئے تکلیف و آزار کاسبب بنتے ہیں۔یہ کون سیمَحَبَّت اور کیسا عشق ہے کہ رسولِ رفیعُ الشان، مدینے کے سلطان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ماہِ رَ مضان کے روزوں کی تاکید فرمائیں مگر خود کو عاشقانِ رسول میں کھپانے والے اِس حُکمِ والا سے رُو گَردانی کر کے ناراضیٔ مصطَفٰے کاسبب بنیں ، حضورِ اکرمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنمازِ تراویح کی تاکید فرمائیں مگر سُست و غافل اُمّتیوں سے نہ پڑھی جائے، پڑھیں بھی تو رَسماً ماہِ رَمَضان کے ابتدائی چند دن اور پھر یہ سمجھ بیٹھیں کہ پورے رمَضانُ المبارَک کی نمازِتراویح ادا ہو گئی۔پیارے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرمائیں : ’’مونچھیں خوب پست (یعنی چھوٹی) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی بڑھاؤ) یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ۔‘‘ (شرح معانی الآثار للطحاوی ج۴ ص۲۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)مگر عشقِ رَسول کے دعوے دار مگر فیشن کے پرستار دُشمنانِ سرکارجیسا چہرہ بنائیں ، کیایہی عشقِ رسول ہے؟
سرکار کا عاشِق بھی کیا داڑھی مُنڈاتا ہے؟
کیوں عِشق کا چہرے سے اِظہار نہیں ہوتا!