وہ کہ اُس در کاہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی
وہ کہ اُس در سے پھر ا اللہ اُس سے پِھر گیا(حدائقِ بخشش شریف)
لیکن اَفسوس! صد اَفسوس! آج کے مسلمانوں کی اکثریت شاہِ اَبرار، دو عالَم کے مالِک ومُختار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اُسوۂ حَسَنہ کو اپنا مِعیار بنانے کے بجائے اغیار کے شِعاراور فیشن پر نثار ہوکر ذلیل و خوار ہوتی جارہی ہے۔ ؎
کون ہے تارِکِ آئینِ رسولِ مُختار مصلَحت، وقت کی ہے کس کے عمل کا مِعیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شِعارِ اَغیار ہو گئی کس کی نِگہ طرزِ سلَف سے بیزار
قلْب میں سوز نہیں ، رُوح میں اِحساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
یہ کیسا عشق اور کیسی مَحَبّت ہے؟
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! جولوگ اپنے والدین سے مَحَبَّت کرتے ہیں وہ اُن کا دل نہیں دُکھاتے، جنہیں اپنے بچے سے مَحَبَّت ہوتی ہے وہ اُسے ناراض نہیں ہونے دیتے،کوئی بھی اپنے دوست کو غم زدہ دیکھنا گوارا نہیں کرتاکیونکہ جس سے مَحَبَّت ہوتی ہے اُسے رَنجیدہ نہیں کیاجاتا مگر آہ!آج کے اکثر مسلما ن جو کہ عشقِ رسول کے دعویدار ہیں مگر اُن کے کام محبوبِ ر بُّ ا لانام صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو شاد کرنے والے نہیں ، سنو!