Brailvi Books

عاشق اکبر
49 - 64
اِستِقلال میں  ذرّہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی اِس مُشکِلات بھری حیات میں  ہمارے لئے یہ دَرس ہے  کہ’’ نیکی کی دعوت ‘‘ کی راہوں  میں خواہ کیسے ہی مصائب کا سامنا ہو مگر پیچھے ہٹنا کُجا اس کاخیال بھی دل میں  نہ آنے پائے۔
جب  آقا  آخِری  وقت   آئے  میرا               مرا سر ہو ترا بابِ کرَم ہو
                  سدا کرتا رہوں  سنّت کی خدمت             مرا جذبہ کسی صورت نہ کم ہو(وسائلِ بخشش)
غمِ دنیا میں  نہیں  غمِ مصطَفٰے میں  روئیں 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ  کی عشق ومَحَبّت بھری مُبارَک زندَگی سے ہمیں  یہ بھی درس ملتا ہے کہ ہماری آہیں  اور سسکیاں  دُنیا کی خاطر نہ ہوں  ، مَحَبّت ِدُنیا میں  آنسو نہ بہیں  ، دُنیوی جاہ وحشمت (یعنی شان و شوکت)کے لئے سینے میں  کَسَک پیدانہ ہو بلکہ ہمارے دل کی حسرت، حُبِّ نبی ہو، آنسو یادِ مصطَفٰے میں  بہیں ، دُنیا کے دیوانے نہیں  بلکہ شمعِرِسالت کے پروانے بنیں ،اُنہی کی پسند پر اپنی پسند قربان کریں  اوریہی خواہِش ہو کہ کاش! میرا مال، میری جان محبوبِ رحمن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی آن پر قربان ہو جائے، اُن سے نسبت رکھنے والی ہر چیز دلعزیز ہو، جو خوش بخت ایسی زندَگی گزارنے میں  کامیاب ہو گیاتو اللہُ تبارَک وتعالیٰ اُس کے لئے دُنیا مسخَّر اور مخلوق کو اُس کے تابع کر دے گا، آسمانوں  میں  اُس کے چرچے ہوں  گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا و مصطَفٰے کا محبوب بن جائے گا۔