دوستی رکھنے کا یہ وَبال کہ مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہورہا تھا تو پھر جو لوگ خود توہین کرتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا! لہٰذا شیخین کریمینرضی اللہ تعالٰی عنہما کے گستاخوں سے دورو نُفُور رہنا ضَروری ہے۔ صِرف عاشقانِ رسول و مُحبّانِ صَحابہ و اولیا کی صحبت اختیار کیجئے،ان عظیم ہستیوں کی اُلفت کا دِیا(یعنی چراغ) اپنے دل میں روشن کیجئے۔اور دونوں جہاں کی بھلائیوں کے حقدار بنئے۔ اللہُ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کی مَحَبَّت قَبْروحَشْر میں بے حد کار آمدہے چُنانچِہ ایک شخص کابیان ہے: میرے اُستاذ کے ایک ساتھی فوت ہو گئے ۔ استاد صاحِب نے انہیں خواب میں دیکھ کر پوچھا : مافَعَلَ اللہُ بِکَ؟ یعنی اللہُ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ کیا؟ جواب دیا : اللہُ عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفِرت فرما دی ۔ پوچھا : مُنکَر نَکیر کے ساتھ کیسی رہی ؟ جوابدیا: اُنہوں نے مجھے بٹھا کر جب سُوالات شروع کئے، اللہُ عَزَّوَجَل نے میرے دل میں ڈالا اور میں نے فرِشتوں سے کہدیا:’’ سیِّدَینا ابو بکر و فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کے واسِطے مجھے چھوڑ دیجئے۔‘‘ یہ سُن کر ایک فرِشتے نے دوسرے سے کہا:’’اس نے بڑی بُزُرگ ہستیوں کا وسیلہ پیش کیا ہے لہٰذا اس کو چھوڑ دو۔‘‘ چُنانچِہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور تشریف لے گئے۔(شَرْحُ الصُّدُورص۱۴۱)
واسِطہ دیا جو آپ کا
میرے سارے کام ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد