Brailvi Books

عاشق اکبر
46 - 64
بُزُرگی ، فضیلت کو خطرے  (یعنی خاطِر)میں  لاؤ۔ آخِر یہ جو کچھ (رشتہ و تعلُّق )تھا ، محمدٌ رَّسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی غلامی کی بِنا پر تھا، جب یہ شخص اُن ہی کی شان میں  گُستاخ ہوا پھرہمیں  اُس سے کیا  عِلاقہ (تعلُّق) رہا؟‘‘	
			  (ایمان کی پہچان،ص۵۸ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی) 
اُنہیں  جانا اُنہیں  مانا نہ رکھا غیر سے کام             لِلّٰہِ الْحَمْد !میں  دُنیا سے مسلمان گیا
اُف رے مُنکِر یہ بڑھا جوشِ تَعَصُّب آخِر          بھیڑ میں  ہاتھ سے کم بَخت کے اِیمان گیا(حدائق بخشِش شریف)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                       صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
گستاخِ صَحابہ سے دُور رہو
	حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی شافِعی علیہ ر حمۃ  اللہِ  القوی ’’ شرحُ الصُّدور‘ ‘  میں  نقل کرتے ہیں :ایک شخص کی موت کا وَقت قریب آ گیا تو اس سے کلمۂ طیِّبہ پڑھنے کے لئے کہا گیا ۔ اس نے جواب دیا کہ میں  اس کے پڑھنے پر قادر نہیں  ہوں  کیوں  کہ میں  ایسے لوگوں  کے ساتھ نِشَست و برخاست (یعنی اٹھنا بیٹھنا)رکھتا تھا جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماکے بُرا بھلا کہنے کی تلقین کرتے تھے۔       (شَرْحُ الصُّدُورص۳۸مرکز اہلسنت برکات رضا الہند )
قَبْر میں  شیخین کا وسیلہ کام آ گیا
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اِس حکایت سے شیخین کریمین یعنی سیِّدَینا صدّیق وفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کی بُلند شانیں  معلوم ہوئیں ، جب ان کی توہین کرنے والوں  سے