Brailvi Books

عاشق اکبر
45 - 64
گستاخِ رسول سے دُور رہو
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  رسولصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے مُتَعلِّق ہر مسلمان کا وہی عقیدہ ہونا ضروری ہے جو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوان اوراسلافِ عُظا م  رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کاتھا، اگر معاذَاللہشیطان وسوسے پیدا کرنے کی کوشِش کرے اور عَظَمتِ وشانِ مصطَفٰیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممیں  طعنہ زَنی کرتے ہوئے عقْلی دَلائل سے قائل کرنے کی ناپاک سَعی (کوشش) کرے تواُس سے الگ تھلگ ہوجائیے جیساکہ دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ 162 صَفَحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’ایمان کی پہچان ‘‘ صَفْحَہ58پر اعلٰی حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن عاشقانِ رسول کو تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’جب وہ(یعنی گستاخانِ رسول)رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی شان میں  گستاخی کریں  اَصْلاً (یعنی بالکل) تُمہارے قلب میں  اُن  (گستاخوں )کی عَظَمت،اُن کی مَحَبَّت کا نام ونِشان نہ رہے فوراً اُن(گستاخوں ) سے الگ ہوجاؤ، اُن(لوگوں ) کو دُودھ سے مکّھی کی طرح نکال کر پھینک دو، اُن (بدبختوں )کی صُورت ،اُن کے نام سے نَفْرت کھاؤپھرنہ تم اپنے رِشتے،عِلاقے، دوستی، اُلفت کاپاس کرو نہ
 اُن کی مَوْلَوِیَّت، مَشَیْخِیَّت،