رسول اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو زندہ نہ جانتے تو ہرگز ایسی وصیّت نہ فرماتے کہ روضۂ اَقدَس کے سامنے میر ا جنازہ رکھ کرنبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے اِجازت طلب کی جائے۔ حضرتِ سیِّدُناابوبکرصِدِّیقرضی اللہ تعالٰی عنہ نے وصیَّت کی اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے اِسے عَمَلی جامہ پہنایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبررضی اللہ تعالٰی عنہ اور تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان کایہ عقیدہ تھا کہ محبوب پروَرْدگار،شاہِ عالَم مدار ،دوعالَم کے مالِک ومُختار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمبعدِ وصال بھی قبر اَنور میں زندہ و حیات اور صاحبِ تَصَرُّفات واِختِیارات ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ!
تُو زِندَہ ہے وَاللہ تُو زِندَہ ہے وَاللہ
مرے چشمِ عالَم سے چُھپ جانے والے(حدائقِ بخشِش شریف)
حیاتُ الْانبِیَا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ! بعطائے ربُّ الانام تمام انبیاءے کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام زندہ ہیں۔ چُنانچِہ’’ ابنِ ماجہ ‘‘ کی حدیثِ پاک میں ہے: اِنَّ اللہَ حرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْانبیاءِ ِفَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ۔
بے شک اﷲ (عَزَّوَجَلَّ)نے حرام کیا ہے زمین پر کہ انبیاء ( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السّلام) کے جسموں کوخراب کرے تو ﷲ (عَزَّوَجَلَّ) کے نبی زندہ ہیں ، روزی دیئے جاتے ہیں۔(سُنَنِ اِبن ماجہ ج۲ ص۲۹۱ حدیث ۱۶۳۷)
ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: اَلْانبیاء اََحیَاء ٌ فِیْ قُبُوْرِہِمْ یُصَلُّوْنیعنی انبیا حیات ہیں اور اپنی اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔
(مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۳ ص۲۱۶ حدیث۳۴۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت )