Brailvi Books

عاشق اکبر
43 - 64
 امامِ اعظم ابو حنیفہرضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفاتِ حسرت آیات کا سبب بھی زَہر ہوا ۔
یارسولَ اللہ ! ابوبکر حاضِر ہے
	وِصالِ ظاہِری سے قبْل فیضیابِ فیضانِ نُبُوَّت،صاحبِ فضیلت وکرامت حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے وصیَّت فرمائی کہ میرے جنازے کو شاہِ بحروبر ،مدینے کے تاجور، حبیبِ داوَرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے روضۂ اَنور کے پاک دَر کے سامنے لاکر رکھ دینا اوراَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کہہ کر عرض کرنا: ’’یارسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ابو بکر آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہے۔‘‘ اگردروازہ خود بخود کُھل جائے تو اندر لے جانا ورنہ جنَّتُ البَقِیْع میں  دفْن کر دینا۔ جنازۂ مُبارَکہ کو حسبِ وَصِیِّت جب روضۂ اَقدس کے سامنے رکھا گیا اور عرض کیا گیا: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ!ابوبکر حاضِر ہے۔ یہ عرض کرتے ہی دروازے کا تالا خود بخودکُھل گیا اور آواز آنے لگی: اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ مُشْتَاقٌیعنی محبوب کو محبوب سے مِلادو کہ محبوب کو محبوب کا اِشتِیاق ہے۔ (تفسیر کبیر ج۱۰ص۱۶۷داراحیاء التراث العربی بیروت)
تیرے قدموں  میں جو ہیں  غیر کامنہ کیا دیکھیں
کون نظروں  پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 	            صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
صِدیقِّ اکبرحیاتُ النَّبی کے قائل تھے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور ! اگرحضرتِ سیِّدُناابوبکر صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ