Brailvi Books

عاشق اکبر
42 - 64
ہائے ! ذلیل دنیا!!
	حاکِم کی یہ روایت شَعَبی سے ہے کہ انہوں  نے کہا :اِس دنیائے دُوں (یعنی ذلیل دنیا) سے ہم بھلا کیا توقُّع رکھیں  کہ (اِس میں  تو) رسولِ خدا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی زَہر دیا گیا اور   حضرتِ سیِّدُنا صِدّیق اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہکو بھی۔(اَیضاً) ان اقوال میں  تعارُض (یعنی ٹکراؤ) نہیں  ہو سکتا ہے(وفات شریف میں ) تینوں  اَسباب جمع ہو گئے ہوں۔(نزہۃُ القاری ج۲ص۸۷۷فریدبک اسٹال))میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعی دنیا کی مَحَبَّت اندھی ہوتی ہے، اِس ذلیل دنیاکی اُلفت کی وجہ سے ہی سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب و سینہ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور عاشقِ اکبر سیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو زَہر دیا گیا، جب کائنات کی سب سے بڑی ہستی یعنی ذاتِ نبوی کو بھی ذلیل دنیا کے نامُراد کُتّوں  نے زَہر دینے کی ناپاک سازش کی تو اب اور کون ہے جو اپنے آپ کو اِس سے محفوظ سمجھے ! لہٰذا بالخصوص نامور عُلماء و مشائخ اور مذہبی پیشواؤں  کو زیادہ مُحتاط رہنے کی ضَرورت ہے۔ دیکھئے نا ! اِسی کمینی دُنیا کے عشق میں  مست ہوکر کسی نابَکار نے سیِّدالْاَ سخِیا، راکِبِ دوشِ مصطَفٰے ، نواسۂ رسول حضرتِ سیِّدُناامام حسن مجتَبیٰرضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھی کئی بار زَہر دیا اور آخِر زَہر خُورانی  ہی وفات کا باعث بنی۔نیز حضرتِ سیِّدُنا  بِشْربِن بَرَاء رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرتِ سیِّدُنا  امام جعفر صادِق   رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا   امام موسیٰ کاظِم   رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا امام علی رضا   رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرتِ سیِّدُنا