سیِّدُناصدِّیق اَکبر کو زَہر دیا گیا
آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وصالِ ظاہری کے اسباب مختلف بتائے جاتے ہیں ، بعض روایات کے مطابِق غارِ ثور والے سانپ کے زَہر کے اثر کے عَود کرنے( یعنی لوٹ کر آجانے) کے سبب آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وفات ہو گئی۔ ایک سبب یہ بتایا گیا کہ غمِ مصَطفٰے میں گُھل گُھل کر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جان دیدی جبکہ ابنِ سعد و حاکِم نے ابنِ شَہاب سے روایت کی ہے کہ ( سیِّدُنا صدِّیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہکی وفات کا ظاہِری سبب یہ تھا کہ) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس کسی نے تحفۃً خُزَیْرہ(یعنی قیمے والادلیہ ) بھیجا تھا، آپ اور حارِث بن کَلَدَہ دونوں کھانے میں شریک تھے(کچھ کھانے کے بعد)حارِث نے(جو کہ طبیب تھا)عرض کی: اے خلیفۂ رسولُ اللہ ! ہاتھ روک لیجئے(اور اسے نہ کھایئے) کہ اس میں زَہر ہے اور یہ وہ زَہر ہے جس کا اثر ایک سال میں ظاہِر ہوتا ہے، آ پ رضی اللہ تعالٰی عنہ دیکھ لیجئے گا کہ ایک سال کے اندر اندر میں اور آپ ایک ہی دن فوت ہوں گے ۔یہ سُن کر آ پ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا لیکن زَہر اپنا کام کر چکا تھا اور یہ دونوں اِسی دن سے بیمار رہنے لگے اور ایک سال گزرنے کے بعد( اُسی زَہرکے اثر سے) ایک ہی دن میں انتقال کیا۔ (تارِیخُ الْخُلَفاء ص۶۲)