میں مریضِ مصطفی ہوں مجھے چھیڑو نہ طبیبو!
مِری زندَگی جو چاہو مجھے لے چلو مدینہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! عاشقِساقی ٔ کوثر، امیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر واقِعی محبوبِ ربِّ اَکبرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے عاشقِ اَکبر ہیں۔ غمِ ہجرِ مصطَفٰے و عشقِ رسولِ مجتبیٰ میں بیمار ہوجانا آپ کے ’’عاشقِ اَکبر‘‘ ہونے کی دلیل ہے۔ دل کی کُڑَھن اور جَلَن کا سبب صرف محبوبِ ربُّ العِبادصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی یاد اور اُن کا فِراق تھا اور ایک ہم ہیں کہ ہمارا دل دُنیاکیمَحَبّت ، عارضی حُسن وجمال اور چند روزہ جاہ وجَلال ہی کا شیدا ہے اور اسی کے لئے تڑپتا، ترَستا اور نفسانی خواہشات پوری نہ ہونے پر حَسرت ویاس سے آہیں بھرتا ہے۔
دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا اے مرے اللہ یہ کیا ہو گیا
کچھ مرے بچنے کی صورت کیجئے اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہو گیا
عیب پوشِ خلق دامن سے ترے
سب گنہگاروں کا پردہ ہو گیا(ذوقِ نعت )
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد