Brailvi Books

عاشق اکبر
39 - 64
سیِّدُنا امام جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی علیہ ر حمۃ  اللہِ  القوی نَقل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہبن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ  کی وفات کا اصل سبب سرورِ کائنات کی ( ظاہِری) وفات تھا کہ اِسی صدمے سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مبارَک بدن گھلنے لگا اور یہی وفات کا باعث بنا۔    (  تارِیخُ الْخُلَفا ئص۶۲بتغیر)
مَر ہی جاؤں  میں  اگر اِس در سے جاؤں  دو قدم
کیا     بچّے   بیمارِ  غم قُرب مسیحا  چھوڑ  کر (ذوقِ نعت)
مَریضِ مصطَفٰے
	حضرتِ سیِّدُنا امام عبدُ الرّحمٰن جلال ُ الدین سُیُوطِی شافِعی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی ’’تَارِیْخُ الْخُلَفَائ‘‘ میں  نقْل فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہکے زمانۂ عَلَالت (یعنی بیماری کے ایّام) میں  لوگ عِیادَت کے لئے حاضِر ہوئے اور عرض کی: اے جانَشینِ رَسول رضی اللہ تعالٰی عنہ! اِجازت ہو تو ہم آپ  کے لئے طبیب لائیں۔ فرمایا: طبیب نے تو مجھے دیکھ لیا ہے ۔ عرض کیا: طبیب نے کیا کہا؟ اِرشاد فرمایا کہ اُس نے فرمایا:’’اِنِّیْ فَعَّالٌ لِّمَا  اُرِیْدُ یعنیمیں  جو چاہتا ہوں  کرتا ہوں۔‘‘ (تارِیخُ الْخُلَفاء ص ۶۲)مُراد یہ تھی کہ حکیم ش عَزَّوَجَلَّہے، اُس کی مرضی کو کوئی ٹال نہیں  سکتا، جو مَشِیّت (یعنی مرضی) ہے ضرور ہوگا۔یہ حضرت صدِّیق اکبر کاتَوَکلُِّ صادِق تھا اور رِضائے حق پر راضی تھے۔	         (سوانح کربلا ص۴۸مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)