شریف کس دن ہوئی؟ا ِس سوال کی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آرزو تھی کہ کفَن ویومِ وَفات میں حُضُورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مُوافَقَت ہو، جس طرح حیات میں حُضُور سرورِ کائنات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی اِتِّباع (یعنی پیروی) کی اِسی طرح مَمَات(یعنی وَفات) میں بھی ہو۔ (صَحیح بُخاری حدیث۱۳۸۷، ج۱، ص۴۶۸دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اللہ اللہ یہ شوقِ اِتّباع
کیوں نہ ہو صِدِّیقِ اَکبر تھے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
صدِّیقِ اکبر کی وفات کا سبب غمِ مصَطَفٰے تھا
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیقرضی اللہ تعالٰی عنہ عشقِ رسولِ باکمال و بے مثال کی دولتِ لازَوال سے کس قَدَر مالامال تھے، آ پ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شب وروز کے اَحوا ل، بی بی آمِنہ کے لال، پیکرِ حسن وجمال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے عشقِ بے مثال کا مَظْہَرِ اَتَمّ(یعنی کامِل ترین اِظہار) ہیں۔ اُمِّی نبی، رسولِ ہاشِمی،مکّی مَدَنی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے وِصالِ ظاہِری کے بعد آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مبارَک زندَگی میں سنجیدَگی زیادہ غالِب آ گئیاور (تقریباً 2سا ل7 ماہ پر مشتمل ) اپنی بقِیّہ(بَ۔قِیْ۔یَہ) زندَگی کے لیل ونَہار(یعنی دن رات) گزارنااِنتِہائی دُشوار ہوگیا اور آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ یادِ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں بے قرار رہنے لگے،چُنانچِہ حضرتِ