Brailvi Books

عاشق اکبر
37 - 64
ہونا اور چمکنا شروع ہو گئے، اُن کی دَرَخشانی وتابانی (یعنی چمک دمک ) آنکھوں  کو خِیرہ(یعنی چکا چوند)کرنے والی تھی، حضورِ پُرنورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے ’’اَلسَّلامُ عَلَیْکُم‘‘ کہہ کرمُصافَحہ (یعنی ہاتھ ملانے)سے مشرَّف فرمایا اور اپنا دستِ مقدَّس میرے سینۂ پُردرد پر رکھ دیا جس سے میرا اِضطِرابِ قَلْبی (یعنی دل کا بے قرارہونا) دُور ہو گیا پھر فرمایا: ’’اے ابوبکر( رضی اللہ تعالٰی عنہ)! مجھے تم سے ملنے کا بَہُت اِشتِیاق(یعنی خواہِش) ہے، کیا ابھی وقت نہیں  آیا کہ تم میرے پاس آ جاؤ؟‘‘ میں  خواب میں  بَہُت رویا یہاں  تک کہ میرے اہلِ خانہ کو بھی میرے رونے کی خبر ہو گئی جنہوں  نے بیدار ہونے کے بعد مجھے خواب کی اِس گِریہ وزاری سے  مُطَّلَع کیا۔  (شواہد النبوۃ للجامی ص۱۹۹مکتبۃ الحقیقۃ ترکی)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  	           صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
یومِ وفات اور کفن میں شوقِ مُوافَقَت
	دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ 274صَفَحَات پر مُشْتَمِل کتاب ’’ صحابۂ کِرام  کا عشقِ رسول ‘‘  صَفْحَہ67پر منقول ہے:  حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہنے اپنی وفات سے چند گھنٹے پیشتر (یعنی قبل)اپنی شہزادی حضرت سَیِّدَتُنَا عائِشہ صِدِّیقہرضی اللہ تعالٰی عنہا سے دَریافت کیا کہ رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے کفن میں  کتنے کپڑے تھے؟حُضور رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی وَفات