Brailvi Books

عاشق اکبر
36 - 64
کاش ! ہمیں  بھی غمِ مصطَفٰے نصیب ہو
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشقِ شاہِ بحرو بر، راہِ عشق ومَحبَّت کے رہبر،عاشقِ اکبر حضرتِ سیِّدُنا صِدّیقِ اَکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی اُلفت وعقیدت کا اشعار میں کس قَدَر سوز و رِقّت کے ساتھ اِظہار فرمایا ہے، کاش! سرورِ کائنات کے وزیر ودلبرحضرتِ سیِّدُناصِدِّیقِ اکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ  کے غمِ مصطَفٰے میں  بہنے والے پاکیزہ آنسوؤں  کے صدقے ہمیں  بھی غمِ مصطَفٰے میں  رونے والی آنکھیں  نصیب ہو جائیں۔ 
ہجرِ    رسول   میں    ہمیں   یا  ربِّ  مصطفی
اے کاش! پھُوٹ پھُوٹ کے رونا نصیب ہو (وسائلِ بخشش)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  	           صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
خواب میں  دیدارِ مُصطَفٰے
	عارِف بِاللہحضرت علّامہ امام عبدالرحمٰن جامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی نے اپنی مشہور کتاب’’ شَواہِدُ النُّبُوّۃ‘‘ میں یارِ غار و یارِ مزار، عاشقِ شَہَنْشاہِ ابرار خلیفۂ اوّل حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مبارَک زندگی کے آخِری ایّام کاایک ایمان افروز خواب نَقل کیا ہے اُس کا کچھ حصّہ بیان کیا جاتا ہے چُنانچِہ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : ایک دَفعہ رات کے آخِری حصّے میں  مجھے خواب کے اندر دیدارِ مصطَفٰے کی سعادت نصیب ہوئی، آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے دو سفید کپڑے زیبِ بدن 
فرما رکھے تھے اور میں  اِن کپڑوں  کے دونوں  کَناروں  کو ملا رہا تھا، اچانک وہ دونوں  کپڑے سبز