Brailvi Books

عاشق اکبر
35 - 64
 دلوں  کے سہارے حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سرورِ کائنات ،شَہَنشاہِ موجوادتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ظاہِری وفات کے موقع پرغمِ مصطَفیٰ میں  بیقرار ہو کریہ اَشعارکہے:
لَمَّا رَاَیْتُ نَبِیَّنَا مُتَجَدَّلاً 	           ضَاقَتْ عَلَیَّ بِعَرْضِھِنَّ الدُّوْر
فَارْتَاعَ قَلْبِیْ عِنْدَ ذَاکَ  لِہُلْکِہٖ	              وَالْعَظْمُ مِنِّیْ مَا حَیِیْتُ کَسِیْر
یَا لَیْتَنِیْ مِنْ قَبْلِ مَھْلَکِ صَاحِبِیْ            غَیَّبْتُ فِیْ جَدْثٍ عَلَی صُخُوْر
 ترجمہ{1} جب میں  نے اپنے نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو وَفات یافْتہ دیکھا تو مکانات اپنی وُسعَت کے باوُجود مجھ پر تنگ ہوگئے{2} اِس وقت آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی وفات سے میرا دل لرز اٹھا اور زندَگی بھر میری ہڈّی شکستہ(یعنی ٹوٹی ہوئی) رہے گی{3}کاش! میں  اپنے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اِنتِقال سے پہلے چٹانوں  پر قبْر میں  دَفن کردیا گیا ہوتا۔ 
	                   (اَلْمَواہِبُ اللَّدُنِّیَّۃ لِلْقَسْطَلَّانِی ج۳ص۳۹۴دار الکتب العلمیۃ بیروت)
	مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ المنان ’’ دیوانِ سالک‘‘ میں  غمِ مصطَفٰے میں  اس طرح کے جذبات کا اِظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
جنہیں  خَلْق کہتی ہے مصطفی ،مراد ل اُنہیں  پہ نثار ہے               مِرے قلب میں  ہیں  وہ جلوہ گرکہ مدینہ جن کا دِیار ہے
وہ جھلک دکھا کے چلے گئے مِرے دل کا چین بھی لے گئے             مِری روح ساتھ نہ کیوں  گئی ،مجھے اب تو زندَگی بار ہے
وُہی موت ہے وُہی زندگی ،جوخدا نصیب کرے مجھے                   کہ مَرے تو اُن ہی کے نام پر،جو جیئے تو اُن پہ نِثار ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     	صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد