خِصال رضی اللہ تعالٰی عنہ کا حال یہ تھا کہ بے وفا دُنیا کی فانی دولت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے سرمایۂ عشق ومَحَبَّت کو سمیٹا،اپنے آپ کو تکلیفوں میں رکھنا گواراکیااوراسی حالت کو راحتِ ہردوسرا (یعنی دونوں جہاں کا سکون) جانا۔
جان ہے عشقِ مصطفی روز فُزُوں کرے ۱ خدا
جس کو ہو دَرد کا مزہ نازِ دوا اٹھائے کیوں (حدائقِ بخشش)
پتا چلابارگاہِ ربُّ العزّت میں صاحب ِ قَدَر ومَنزِلَت وہ نہیں جس کے پاس مال و دولت کی کثرت ہے بلکہ صاحبِ شرافت وفضیلت اور زیادہ ذی عزَّت وہ ہے جو زیادہ تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت سے مالا مال ہے جیساکہ اللہ مُجِیْبُ الدَّعْوَات عَزَّوَجَلَّ کا پارہ 26 سُوْرَۃُ الْحُجُرٰتکی آیَت13میں فرمانِ عزّت نِشان ہے:
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزَّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
صدِّیقِ اَکبرکا غمِ مصطَفٰے
بارگاہِ الہٰی کے مُقَرَّب اور پیارے دربارِ رِسالت کے چمکتے دمکتے ستارے ، سلطانِ دوجہاں صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھو ں کے تارے ، دکھیاروں کے ٹوٹے
مـــــــــــــدینـــہ
۱ یعنی بڑھائے،زیادہ کرے