Brailvi Books

عاشق اکبر
32 - 64
یوں  مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مِرا
میں  خاک پر نگاہ درِ یار کی طرف (ذوقِ نعت)
	مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان   صِدِّیقِ اَکبر کی مبارک شان  بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :    
بہتری   جس   پہ کرے   فخر   وہ    بہتر  صِدِّیق         سَروَری جس پہ کرے ناز وہ سَروَرصِدِّیق
زِیست میں  موت میں  اور قبر میں  ثانی ہی رہے        ثَانِیَ اثْنَیْنکے اِس طرح ہیں  مظہَر صِدِّیق
اُن     کے  مَدّاح    نبی    اُن  کا    ثنا   گو   اللہ                                   حق  اَبُو   الفَضْل  کہے   اور   پَیَمبر   صِدِّیق
بال بچّوں   کے لئے گھرمیں  خدا کو چھوڑیں              مصطَفٰے    پر کریں    گھر بار  نچھاور   صِدِّیق
ایک گھر بار تو کیا غار میں  جاں  بھی دے د یں          سانپ ڈستا رہے لیکن نہ ہوں مُضطَر صِدِّیق
                                                                                   (دیوانِ سالک)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
سفَرِآخِرت میں  مُوافَقت
	مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ المنان فرماتے ہیں :حُضُور اَنورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی وَفات زَہر کے عَود کرنے (یعنی لَوٹ آنے) سے ہوئی۔   ۱      اِسی طرح حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدّیقرضی اللہ تعالٰی عنہکی وفات اُس وقت سانپ کا زہر لوٹ آنے سے ہوئی، جس نے ہجرت کی رات غار میں  آپ کو ڈَسا تھا۔ حضرت صِدّیق کو فَنَا فِی الرَّسُوْل  کا وہ درَجہ حاصِل ہے کہ آپ کی وَفات بھی حضور اَنور  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
    ۱ ؎     جو زَہر غزوۂ خیبر کے موقع پر زینب بنت حارث یہودیہ نے دیا تھا۔(مدارج النبوۃ ج ۲ ص ۲۵۰)