Brailvi Books

عاشق اکبر
31 - 64
 الرِّضْوان کا طریقہ ہے:
وَاللہ! وہ سُن لیں  گے فریاد کو پہنچیں  گے
اِتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 	   صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
صِدّیقِ اَکبر کی انوکھی آرزو
	حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن سیرینعلیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں :جب حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ غار کی طرف جارہے تھے تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کبھی سرکارِ عالی وقارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے آگے چلتے اور کبھی پیچھے۔  حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدَم،رسولِ مُحتَشَمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے پوچھا: ایسا کیوں  کرتے ہو؟ عرض کی: جب مجھے تلاش کرنے والوں  کا خیال آتا ہے تو میں  آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے پیچھے ہو جاتا ہوں  اور جب گھات میں  بیٹھے ہوئے دُشمنوں  کا خیال آتا ہے تو آگے آگے چلنے لگتا ہوں  ، مَبادا (یعنی ایسانہ ہوکہ) آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کوئی تکلیف پہنچے۔ پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطَفٰیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشاد فرمایا: کیا تم خطرے کی صورت میں  میرے آگے مَرنا پسند کرتے ہو؟ عرض کی: ’’ربِّ ذُوالجَلال کی قسم!  میری یہی آرزو ہے۔‘‘
             ( دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ  لِلْبَیْہَقِی ج۲ ص ۴۷۶ مُلَخَّصاًدارالکتب العلمیۃ بیروت)