Brailvi Books

عاشق اکبر
30 - 64
غار کے اُس پار سمندر نظر آیا!
	بعض سیرت نِگاروں  نے لکھا ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب دشمن کے دیکھ لینے کا خدشہ ظاہِر کیا تو آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: اگر یہ لوگ اِدھر سے داخِل ہوئے تو ہم اُدھر سے نکل جائیں  گے۔ عاشقِ اکبر سیِّدُناصِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے جُوں  ہی اُدھر نگاہ کی تو دوسری طرف ایک دروازہ نظر آیا جس کے ساتھ ایک سمُندر ٹھاٹھیں  مار رہاتھا اور غار کے دروازے پر ایک کَشتی بندھی ہوئی تھی۔        (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ج۱ ص۵۸) 
تم ہوحَفیظ و مُغِیث کیا ہے وہ دُشمن خبیث   تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں  دُرُود
آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمہاری ہے آس بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں  دُرُود
                                                                        (حدائق بخشش شریف)
مصیبت میں  آقا سے مدد مانگنا صحابہ کا طریقہ ہے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے سرورذِیشان،رحمتِ عالَمِیان، شاہ ِ کون و مکان صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا معجزۂ راحت نِشان مُلاحَظہ فرمایاکہ غارِ ثور کی دوسری طرف آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی نِگاہ پُراَنوار کی بَرَکت سے یارِ غار و یارِ مزاررضی اللہ تعالٰی عنہ کو کَشتی و سمندر نظر آئے اوریوں  فیضانِ رِسالت سے  آپ رضی اللہ تعالٰی عنہچین وراحت محسوس فرمانے لگے ۔اِس واقعے سے مزید یہ بھی پتا چلا کہ محبوبِ ربُّ العِباد ، راحتِ ہرقلْبِ ناشادصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے حاجت و مصیبت کے وقت طلبِ اِمداد صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ