Brailvi Books

عاشق اکبر
29 - 64
مطمئن اور بے خوف ہو گئے اور چوتھے دن یکم ربیعُ النُّور بروز دوشَنبہ (یعنی پیرشریف) حضور ِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم غار سے باہَر تشریف لائے اورمدینۂ منوَّرہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً روانہ ہو گئے۔( ماخوذ ازعجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص۳۰۳۔۳۰۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 	            صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
واہ ! رے مکڑی تیرا مقدّر!
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلحمدُلِلّٰہ! محبوبِ ربِّ اَکبرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اورصِدِّیق اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کامیاب و بامُرادہوئے اور تلاش کرنے والے کُفّارِ بَداَطوار  ناکام ونامُراد ہوئے۔ مکڑی نے جُستجُو کا دروازہ بند کر کے غار کا دَہانہ (منہ) ایسا بنادیا کہ وہاں  تک سُراغ رسانوں (یعنی جاسوسوں ) کی سوچ بھی نہ پہنچ سکی اوروہ مایوس ہو کر واپس پلٹے اور  مکڑی کو لازَوال سعادَت مُیَسَّرآئی جس کو ’’ مُکاشَفَۃُ القُلُوب‘‘ میں  حضرتِ سیِّدُنا ابنِ نَقِیب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِالحسیب نے کچھ یوں  بیان کیا:ریشم کے کیڑوں  نے ایسا ریشم بُنا جو حُسن میں  یکتا(یعنی بے مثال) ہے مگر وہ مکڑی اِن سے لاکھ درَجے بہتر ہے اِس لئے کہ اُس نے غارِ ثور میں سرکارِ عالی وقارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے غار کے دَہانے (یعنی منہ) پر جالا بُنا تھا۔(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ج۱ ص۵۷) 
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 	         صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد