لُعابِ دَہَن (یعنی تھوک شریف )لگایا تو فوراً آرام مل گیا۔
( مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ج۴ ص۴۱۷ حدیث ۶۰۳۴وغیرہ)
نہ کیوں کر کہوں یَا حَبِیْبِیْ اَغِثْنِیْ !
اِسی نام سے ہر مصیبت ٹلی ہے
منزلِ صدق و عشق کے رَہبر حضرتِ سیِّدُنا صدّیقِ اَکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کی عَظَمت اور غارِ ثور والی حکایت کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا : ؎
یار کے نام پہ مرنے والا سب کچھ صَدَقہ کرنے والا
ایڑی تو رکھدی سانپ کے بِل پر زہر کا صدمہ سَہ لیا دل پر
منزلِ صدق وعشق کا رَہبر یہ سب کچھ ہے خاطرِ دلبَر
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
اللہ ہمارے ساتھ ہے
حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ جب رسولِ ذِی وقار،شَہَنشاہِ اَبرار، صاحبِ پسینۂ خوشبودارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ غارِثور میں تشریف لے گئے تو کفّارِ ناہَنجار تقریباً غار کے قریب پہنچ چکے تھے،اِن دونوں مُقدَّس ہستیوں کی غار میں موجُودَگی کو
اللہُ رَبُّ الْعُلٰیعَزَّوَجَلَّنے پارہ10سُوْرَۃُ التَّوْبَۃآیت نمبر40 میں یوں بَیان فرمایا:ثَانِیَ اثْنَیۡنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِترجَمۂ کنزالایمان:صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے۔
اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اِسی واقِعے کی طرف اِشار ہ کرتے ہوئے صِدِّیقِ اکبر رضی