Brailvi Books

عاشق اکبر
25 - 64
الفاظ کے فرق کے ساتھ مختلف کتابوں  میں  اِس مضمون کی روایات ملتی ہیں  کہ جب ش کے حبیب، حبیب ِ لبیب، بے چین دلوں  کے طبیبصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمغارِ ثَور کے قریب پہنچے تو پہلے حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ غار میں داخِل ہوئے، صفائی کی، تمام سوراخوں  کو بند کیا، آخِری دو سوراخ بند کرنے کے لئے کوئی چیز نہ ملی، تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے پاؤں  مبارَک سے ان دونوں  کوبند کیا ، پھر رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم سے تشریف آوَری کی درخواست کی: رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اندر تشریف لے گئے اوراپنے وفادار، یارِغار و یارِ مزارصِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہکے زانو پر سرِ انور رکھ کر مَحوِ اِستِراحت ہوگئے(یعنی سو گئے)۔  اُس غارمیں  ایک سانپ تھا اُس نے پاؤں  میں  ڈس لیا مگر قربان جائیے اُس پیکرِ عشق ومَحَبَّت پر کہ دَرد کی شدَّت و کُلفت (یعنی تکلیف) کے باوُجود محض اِس خیال سے کہمصطَفٰے جانِ رَحمتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آرام و راحت میں  خلَل واقِع نہ ہو، بدستور ساکِن وصامِت (یعنی بے حرکت وخاموش) رہے، مگرشدتِ تکلیف کی وجہ سے غیر اختیاری طور پرچشمانِ مُبارَک (یعنی آنکھوں ) سے آنسو بہ نکلے اور جب اَشکِ عِشق کے چند قطرے محبوب ِکریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم کے وَجہ ِکریم (یعنی کرم والے چِہرے ) پر نچھاور ہوئے توشاہِ عالی وقار ،ہم
 بے کسوں  کے غم گُسارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیدار ہو گئے، اِستِفسارفرمایا: اے ابوبکر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)! کیوں  روتے ہو؟ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہنے سانپ کے ڈَسنے کاواقِعہ عرض کیا۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ڈسے ہوئے حصّے پر اپنا