Brailvi Books

عاشق اکبر
27 - 64
اللہ تعالٰی عنہ کی شانِ عَظَمت نشان یوں بیان فرماتے ہیں :
یعنی اُس اَفضلُ الْخَلْقِ بَعْدَ الرُّسُل                                                                                                                                                                        ثَانِیَ اثْنَیْنِ ہِجرت پہ لاکھوں  سلام(حدائقِ بخشش شریف)
	اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان دونوں  مُقدّس ہستیوں  کی حِفاظت کے ظاہِری اَسباب بھی پیدا فرما دیئے وہ اِس طرح کہ جونہی جنابِ رسالت مآبصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مَعِیَّت(یعنی ہمراہی) میں  غارِ ثور میں  داخِل ہوئے تو خدائی پہرہ لگا دیا گیا کہ غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تَن دیا اور کَنارے پر کبوتری نے انڈے دے دئیے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 680 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب‘‘کے صَفْحَہ132پر ہے : یہ سب کچھ کفّارِ مکہ کو غار کی تلاشی سے باز رکھنے کے لئے کیا گیا، اُن دو کبوتروں  کو ربِّ ذُوالْجَلال عَزَّوَجَلَّ نے ایسی بے مثال جزا دی کہ آج تک حَرَمِ مکّہ میں  جتنے کبوتر ہیں  وہ اُنہی دو کی اَولاد ہیں  ، جیسے اُنہوں  نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے نبیِّ رَحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی
 حِفاظت کی تھی ویسے ہی ربعَزَّوَجَلَّنے بھی حَرَم میں  اُنکے شِکار پر پابندی عائِدفرمادی۔ 
				(مُکاشَفۃُ الْقُلوب ج۱ ص۵۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت )
فانوس بن کے جس کی حِفاظت ہَوا کرے
وہ شمع کیا بُجھے جسے روشن خدا کرے
	جب کُفّارِقریش نے وہاں  کبوتروں  کا گھونسلا اور اُس میں  انڈے دیکھے تو کہنے لگے: اگر اس غارمیں  کوئی انسان موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی نہ کبوتری  انڈے دیتی ۔ کُفّار کی آہٹ پا