Brailvi Books

عاشق اکبر
24 - 64
اَندازسمجھ میں نہیں  آتے تو وہ اُن کا مذاق اُڑاتے،پَھبتیاں کستے اورباتیں  بناتے ہیں۔ایک شاعِرنے ایسے نا سمجھوں  کو سمجھاتے ہوئے اور حقیقی عُشّاق کے دیوانگی سے بھر پور جذبات کی ترجُمانی کرتے ہوئے کہا:
نہ کسی کے رَقص پہ طنز کر نہ کسی کے غم کا مذاق اڑا
جسے چاہے جیسے نواز دے، یہ مزاجِ عشقِ رسول ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
	خدا کی قسم اگر ہمیں  عاشقِ اکبرحضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عشقِ رسول کے ایک ذرّے کا کروڑواں  حصّہ بھی عطا ہو جائے توہمارا بیڑا پار ہو جائے۔
دولتِ عشق  سے آقا   مِری    جھولی   بھر دو     بس یہی ہو  مِرا سامان مدینے والے
 آپ کے عشق میں  اے کاش! کہ روتے روتے   یہ نکل جائے مری جان مدینے والے
مجھ    کو    دیوانہ  مدینے  کا  بنا    لو     آقا        بس یہی ہے  مِرا اَرمان مدینے والے
 کاش!       عطّارؔ ہو    آزاد        غمِ دُنیا  سے    بس تمہارا ہی رہے دِھیان مدینے والے
(وسائلِ بخشش)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  	                          صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
غارِ ثور کا سانپ
	ہجرت ِ مدینۂ منوَّرہ کے موقع پر سرکارِ نامدار،مکّے مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ   تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے رازدار وجاں نِثار، یارِ غار و یارِ مزار حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جاں  نِثاری کی جو اعلیٰ مثال قائم فرمائی وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے، تھوڑے بَہُت