Brailvi Books

عاشق اکبر
23 - 64
ہوئے اور مرض نے غَلَبہ کیا تو فرمایا کہ ابوبکر کو حکم کروکہ نماز پڑھائیں۔ سَیِّدَتُنَا عائِشہ صِدِّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے عرض کی: یارسولَ اللہ!  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ نرم دل آدمی ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہوکر نَماز نہ پـڑھاسکیں  گے۔ فرمایا:حکم دو ابوبکر کو کہ نماز پڑھائیں۔حضرت سَیِّدَتُنَا عائِشہ صِدِّیقہرضی اللہ تعالٰی عنہا  نے پھر وہی عُذر پیش کیا۔ حُضُور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) نے پھر یہی حکم بَتاکید فرمایا اور حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے حضور  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ مبارَک میں  نماز پڑھائی۔ یہ حدیثِ مُتَوَاتِر ہے (جو کہ)حضرتِ عائشہ و ابنِ مسعود و ابنِ عبّاس وابنِ عُمر و عبداللہ بن زَمْعَہ وابو سعید وعلی بن ابی طالب و حفصہ( رضی اللہ تعالٰی عنہم  ) وغیرہم سے مروی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اِس حدیث میں  اس پربَہُت واضح دلالت ہے کہ حضرتِ صدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ  مطلقاً تمام صَحابہ سے افضل اور خِلافت و اِمامت کے لئے سب سے اَحق واَولیٰ(یعنی زیادہ حقدار اور بہتر) ہیں۔		 	  (تارِیخُ الْخُلَفاء ص ۴۷،۴۸) 
عِلْم میں  ،زُہْد میں بے شبہ تُو سب سے بڑھ کر           کہ امامت سے تِری کھل گئے جَوہَر صِدِّیق
اِس اِمامَت سے کُھلا تم ہو اِمامِ اکبر                     تھی یہی رَمزِ نبی کہتے ہیں  حیدر صِدِّیق
(دیوانِ سالک)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   	                                    صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عاشقِ صادق کی یہ پہچان ہے کہ وہ ہرآن، یادِ محبوب کو  حِرزِ جاں  بنائے رکھتا ہے۔عشقِ رسُول کی لذّت سے ناآشنا لوگوں  کوجب عاشقوں  کے