کہیں گرتوں کو سنبھالیں ،کہیں روٹھوں کو منائیں کھودیں اِلحاد کی جڑ بعدِ پیمبر صِدِّیق
تو ہے آزاد سقر سے ترے بندے آزاد ہے یہ سالکؔ بھی ترا بندۂ بے زر صِدِّیق
(دیوانِ سالک از مفتی اَحمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
مُریدِ کامِل
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن ’’فتاوٰی رَضَوِیہ شریف‘‘ میں فرماتے ہیں :ــــ’’اولیاءِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام فرماتے ہیں کہ پوری کائنات میں مصطَفٰیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جیسا نہ کوئی پیر ہے اور نہ ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسا کوئی مرید ہے۔‘‘ (فتاوٰی رَضَوِیہ مخرَّجہ ج۱۱ص۳۲۶)
عقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شَمشیر تری میرے دَرویش!خِلافت ہے جہانگیر تری
مَا سِوَا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تری تُو مسلماں ہو توتقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
صدِّیقِ اَکبر نے امامت فرمائی
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 92 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ سَوانِحِ کربلا‘‘صَفْحَہ41پر ہے:بخاری ومسلم نے حضرتِ (سیِّدُنا)ابو موسیٰ اَشْعَری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ،حُضُورِ اقدسعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام مریض