Brailvi Books

عاشق اکبر
21 - 64
 نورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممیں  حاضِر تھے ، اِرشاد فرمایا: اِس وَقت تم پر وہ شخص چمکے (یعنی ظاہِرہو)گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے میرے بعد اُس سے بہتر وبُزُرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اُس کی شَفاعت،شَفاعتِ انبیاءِ کرام(عَلَیْہِمُ السَّلام) کے مانند ہوگی۔ ہم حاضِر ہی تھے کہ (حضرتِ سیِّدُنا) ابو بکر صِدِّیقرضی اللہ تعالٰی عنہ نظر آئے،  سیِّدِ عالمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قِیام فرمایا(یعنی کھڑے ہوگئے) اور( حضرتِ سیِّدُنا  ) صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ  کو پیار کیا اور گلے لگایا۔(تاریخِ بغدادج ۳ ص۳۴۰){3} حضرتِ (سیِّدُنا) عبد اللہ بنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے رِوایَت ہے، میں  نے حُضُور اَقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو امیرُ المؤمنین (حضرتِ سیِّدُنا)علی (المرتضیٰ )کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ساتھ کھڑے دیکھا، اتنے میں  ابوبکر صِدِّیقرضی اللہ تعالٰی عنہ حاضِر ہوئے۔ حُضُور پُر نورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اُن سے مُصافَحہ فرمایا (یعنی ہاتھ ملائے)اورگلے لگایااو راُن کے دَہَن (یعنی منہ)پر بوسہ دیا ۔ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی:کیا حُضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ابوبکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا مُنہ چومتے ہیں  ؟ فرمایا: ’’اے ابوالحسن   ۱     (رضی اللہ تعالٰی عنہ)! ابوبکر(رضی اللہ تعالٰی عنہ) کا مرتبہ میرے یہاں  ایسا ہے جیسا میرا مرتَبہ میرے ربّ (عَزَّوَجَلَّ) کے حُضُور۔‘‘(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۸ ص ۶۱۰۔۶۱۲)  
مــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ ؎    اپنے بڑے شہزادے حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن مجتبیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت سے امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی کُنْیَت ’’ابو الحسن‘‘ ہے۔