سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو محبوبِ ربِّ اکبر،دوعالَم کے تاجْوَرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بے پناہ عشق ومَحَبَّت تھی، اِسی طرح رسولِ رحمت،سراپا جُودو سخاوَتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمبھی صِدِّیقِ اکبررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَحَبّت وشفقت فرماتے۔اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولاناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰننے ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘ کی جلد نمبر 8 صَفْحَہ610 پر وہ اَحادیث مبارَکہ جمع فرمائیں جن میں رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اپنے پیارے صِدِّیق اَکبررضی اللہ تعالٰی عنہ کی شانِ رفعت نِشان بیان فرمائی ہے چُنانچِہ تین روایات مُلاحظہ فرمایئے:{1} حِبْرُ الْاُ مَّہ( یعنی اُمَّت کے بہُت بڑے عالم) حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بنِ عبّاس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے رِوایَت ہے، رسو لُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اورحُضُورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صَحابہ(عَلَیْہِمُ الرِّضْوان ) ایک تالاب میں تشریف لے گئے،حُضُور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:ہر شخص اپنے یار کی طرف پَیرے (یعنی تیرے)۔ سب نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ صرف رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّماور ( حضرتِ سیِّدُنا )ابو بکر صِدِّیق(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) باقی رہے، رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم صِدِّیق ( رضی اللہ تعالٰی عنہ )کی طرف پَیر (یعنی تَیر) کے تشریف لے گئے اور انہیں گلے لگا کر فرمایا: ’’میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہکوبناتا لیکن وہ میرا یار ہے۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۱۱ص۲۰۸){2}حضرتِ (سیِّدُنا) جابربن عبد اللہرضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے کہ ہم خدمتِ اقدس حُضُورِ پُر