Brailvi Books

عاشق اکبر
19 - 64
اُس کا فضل ڈھونڈو اور اس لیے
کہ تم حق مانو۔ ‘‘(پ 20 ، القصص :73)اور یہ اِس بات کی طرف تَلْمِیْح(یعنی اِشارہ) ہے کہ دین کا نظام اِن دونوں  (محبوبِ ربِّ اکبر و صِدِّیقِ اکبرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم و  رضی اللہ تعالٰی عنہ ) سے قائم ہے جیسے کہ دنیاکا نظام دن رات سے قائم ہے تو اگر دن نہ ہو توکچھ نظر نہ آئے اور رات نہ ہو تو سکون حاصل نہ ہو۔  	  ( ماخوذ ازفتاوٰی رَضَوِیہ ج۲۸، ص۶۷۹۔۶۸۱) 
خاص اُس سابِقِ سیرِ قربِ خدا           اَوحَدِ کامِلِیَّت پہ لاکھوں  سلام
سایۂ مصطَفٰے ،  مایۂ اِصطَفا  	عِزّ و نازِ خِلافت پہ لاکھوں  سلام
اَصدَقُ الصَّادِقِیں ، سیِّدُ المُتَّقِیں       	       چَشم وگوشِ وزارت پہ لاکھوں  سلام
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  	                                              صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
مِنبرِ مُنوَّر کے زینے کا اِحتِرام
	طَبَرانی نے اَوسط میں  حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر  رضی اللہ تعالٰی عنہماکے حوالے سے بیان کیا ہے کہ تازِیْسْتْ (یعنی زندگی بھر)حضرتِ سیِّدُنا صِدّیق اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہمنبرِ مُنوَّر پر اس جگہ نہیں  بیٹھے جہاں  حُضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف فرما ہوتے تھے، اِسی طرح حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ، حضرتِ سیِّدُنا صِدّیق اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جگہ اور  حضرتِ سیِّدُناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہحضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ، کی جگہ پر جب تک زندہ رہے کبھی نہیں  بیٹھے۔   (تارِیخُ الْخُلَفاء ص۷۲) 
سرکارِ نامدار کا یار
   میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! جس طرح مُحِبِّ مہرِ مُنَوَّر،رَفیقِ رَسولِ اَنور،عاشقِ اکبر حضر تِ