عالمیانصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے بھی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تعریف وتَوصِیف بَیان فرمائی ۔
سات غلام خرید کر آزاد کئے
’’فتاوٰی رضویہ ‘‘ جلد28 صَفْحَہ509پرہے: امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہنے 7(غلاموں کوخرید کراُن) کو آزاد کیا، اِن سب ( غلاموں ) پر اللہُ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں ظُلْم توڑا جاتا تھا اور اِنہیں (صدِّیقِ اکبر)کے لئے یہ آیت اُتری:
وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ۱۷﴾ (پ۳۰، اللیل: ۱۷)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور بَہُت اُس (دوزخ) سے دُور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار۔
صَفْحَہ 512 پر امام فخرالدین رازیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الباقی کے حوالے سے ہے: ہم سُنّیوں کے مُفسِّرِین کا اِس پر اِجماع ہے کہ’’اَتْقٰی‘‘ سے مراد حضرتِ( سیِّدُنا ) ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ)
قَصْرِ پاکِ خِلافت کے رُکنِ رکیں شاہِ قوسَین کے نائبِ اوّلیں
یارِ غار شَہَنشاہِ دُنیا و دیں اَصدَقُ الصَّادِقِیْں سَیِّدُ المُتَّقِیں
چشم وگوشِ وَزارت پہ لاکھوں سلام
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
تین چیزیں پسند ہیں
مُشیرِ رسولِ انور،عاشقِ شَہنشاہِ بحرو بر حضر تِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے