Brailvi Books

عاشق اکبر
13 - 64
عالمیانصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے بھی آپ  رضی اللہ تعالٰی عنہ  کی تعریف وتَوصِیف بَیان فرمائی ۔
سات غلام خرید کر آزاد کئے
 	’’فتاوٰی رضویہ ‘‘  جلد28 صَفْحَہ509پرہے: امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ تعالٰی عنہنے 7(غلاموں کوخرید کراُن) کو آزاد کیا، اِن سب ( غلاموں ) پر اللہُ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں  ظُلْم توڑا جاتا تھا اور اِنہیں  (صدِّیقِ اکبر)کے لئے یہ آیت اُتری:
وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ۱۷﴾ (پ۳۰، اللیل: ۱۷)
ترجَمۂ کنز الایمان:اور بَہُت اُس (دوزخ) سے دُور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار۔
	 صَفْحَہ 512 پر امام فخرالدین رازیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الباقی کے حوالے سے ہے: ہم سُنّیوں  کے مُفسِّرِین کا اِس پر اِجماع ہے کہ’’اَتْقٰی‘‘ سے مراد حضرتِ( سیِّدُنا ) ابوبکر  رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں  ۔			(فتاوٰی رضویہ)
قَصْرِ پاکِ خِلافت کے رُکنِ رکیں    شاہِ قوسَین کے نائبِ اوّلیں
یارِ غار شَہَنشاہِ دُنیا و دیں                 اَصدَقُ الصَّادِقِیْں  سَیِّدُ المُتَّقِیں
چشم وگوشِ وَزارت پہ لاکھوں  سلام
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !		صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
تین چیزیں  پسند ہیں 
	مُشیرِ رسولِ انور،عاشقِ شَہنشاہِ بحرو بر حضر تِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبر  رضی اللہ تعالٰی عنہ   فرماتے